ابنا: جن میں ایران کے وفد کی قیادت سعید جلیلی اور گروپ پانچ جمع ایک کے وفد کی قیادت یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین ایشٹن کریں گی۔ ایرانی وفد میں سعید جلیلی کے معاون علی باقری اور ایران کے نائب وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی شامل ہوں گے۔
بغداد مذاکرات سے قبل ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے سربراہ یوکیا امانو نے بھی تہران کا دورہ کیا ہے جہاں انہوں نے سعید جلیلی اور وزیر خارجہ علی اکبر صالحی سمیت اعلی ایرانی حکام سے ملاقاتیں کیں۔ جن میں دونوں فریقوں کے مفادات کے بارے میں گفتگو کی گئی۔
یوکیا امانو نے اپنے دورۂ تہران کو مثبت اور تعمیری قرار دیا۔ سعید جلیلی نے بھی کہا کہ یوکیا امانو کے ساتھ ملاقات میں ایٹمی ہتھیار رکھنے والے ممالک کے ایٹمی ہتھیار ختم کرنے اور ایٹمی توانائی کے پرامن استعمال پر زور دیا۔ اس نقطۂ نظر سے ایران اور آئی اے ای اے کے مذاکرات کے نتائج ایران اور گروپ پانچ جمع ایک درمیان جامع مذاکرات کے دوسرے دور کے مقاصد کو حاصل کرنے میں مؤثر واقع ہو سکتے ہیں۔ لہذا سیاسی مبصرین بغداد مذاکرات کو بہت اہم قرار دے رہے ہیں۔
ان مذاکرات کا پہلا دور جو چودہ اپریل کو استنبول میں منعقد ہوا تھا، دونوں فریقوں نے مثبت قرار دیا تھا۔ اس کے باوجود گروپ پانـچ جمع ایک کے موقف میں کچھ ایسے مسائل موجود ہیں کہ جو تعمیری مذاکرات کے عمل پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ بعض مبصرین کے خیال میں استنبول مذاکرات کے بعد اور بغداد مذاکرات سے پہلے کے درمیانی عرصے میں ایران نے نیک نیتی کے ساتھ تعاون کے راستے پر قدم بڑھائے ہیں لیکن ابھی تک دوطرفہ مذاکرات کے نتائج کی کوئی واضح تصویر کھل کر سامنے نہیں آئی ہے۔
استنبول مذاکرات میں ہونے والے فیصلوں کی رو سے توقع کی جا رہی ہے کہ بغداد مذاکرات کا مقصد قدم بہ قدم کی پالیسی ہو گا۔ اس بنا پر اب واضح ہے کہ بغداد مذاکرات کا مقصد کیا ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ اس مقصد کے حصول کا فریم ورک اور دائرہ کار بغداد مذاکرات میں طے ہو گا۔
بغداد مذاکرات کی کامیابی سے اگلے اہم قدم اٹھائے جا سکتے ہیں۔ اس بنا پر فریقین اگر محاذ آرائی کے بجائے تعاون اور اعتماد سازی کا راستہ اختیار کریں تو مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گي۔
غیرمنطقی مطالبات پر اصرار کرنا اور ایران کے خلاف پابندیوں اور فوجی حملے کی دھمکیوں پر مبنی ماضی کی غلط روش کا جاری رہنا ایسا راستہ ہے جو بند گلی کی طرف جاتا ہے۔ واضح سی بات ہے کہ ایران مشترکہ نقاط کے تحت اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے گروپ پانچ جمع ایک کے فیصلے کا خیرمقدم کرتا ہے اور اس بات پر زور دیتا ہے کہ این پی ٹی کا رکن ہونے کے ناطے اس معاہدے میں دئے گئے ایران کے مسلمہ ایٹمی حقوق پر مذاکرات نہیں کئے جا سکتے اور مذاکرات بھی معاہدے میں دوسرے ملکوں کو دئے گئے حقوق کے احترام کی بنیاد پر ہونے چاہییں۔
.......
/169